(یعنی جان کو اذیّت دینے والی) گرمی سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہوگا تواللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے خوش قسمت نوجَوان کو اپنے عرْش کا سایۂ رحمت عطافرمائے گاجیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا اِمام عبدالرَّحمن جلال ُ الدِّین سُیُوطی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا سَلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف خط لکھا کہ ’’اِن صِفات کے حامِل مسلمان عرْش کے سائے میں ہوں گے: (اُن میں سے دو یہ ہیں ) (۱)…وہ شخص جس کی نشوونَمااِس حال میں ہوئی کہ اُس کی صحبت، جوانی اور قوّت اللہ عَزَّوَجَلَّکی پسند اور رِضاوالے کاموں میں صرْف ہوئی اور(۲)…وہ شخص جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذِکْر کیا اوراُس کے خوف سے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔‘‘
(مُصَنَّف اِبْنِ اَبِی شَیْبۃ، کتاب الزہد، کلام سلمان، ۸/۱۷۹،حدیث:۱۲، ملتقطاً)
یا ربّ! میں ترے خوف سے روتا رہوں اکثر
تُو اپنی محبت میں مجھے مست بنا دے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہمارے اَسلافِ کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلامجوانی کی بَہُت قدْر کرتے اور اِس کی قدْر کرنے کی تلقین بھی فرماتے چُنانچِہ
امام غزالی کی نصیحت
حُجَّۃُ الاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامِد محمد بن محمد غَزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی