Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
30 - 40
فَلا تَکْتُبْ بِکَفِّکَ غَیْرَ شَیْئٍ	یَسُرُّکَ فِیْ الْقِیَامَۃِ اَنْ تَرَاہٗ
	یعنی ہر لکھنے والا ایک دن قبر میں جاملے گا مگراُس کی تحریر ہمیشہ باقی رہے گی اِس لئے اپنے ہاتھ سے ایسی بات لکھو جسے دیکھ کر بروزِ قیامت تمہیں خوشی ملے۔
	حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کابیان ہے کہ میرا نوِشتہ (تحریر) پڑھ کر اُس جوانِ صالِح نے ایک چیخ ماری اوراپنی جان جانِ آفریں کے سِپُرد کر دی۔ میں نے سوچا کہ اِس کی تجہیزوتکفین کا اِنْتِظام کردوں مگر ہاتِفِ غیبی نے آواز دی:ذُوالنُّون! اِسے رہنے دو، ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ  نے اِس سے عہد کیا ہے کہ فِرِشتے تیری تجہیز وتکفین کریں گے۔ یہ سن کرآپ  رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  باغ کے ایک گوشہ میں مصروف ِعبادت ہو گئے اور چند رکعات پڑھنے کے بعد دیکھا تووہاں اس نوجوان کا نام ونشان بھی نہ تھا۔(روض الریاحین، ص۴۹،بتصرفٍ)
رہوں مست و بے خود میں تیری وِلا میں
پِلا جام ایسا پِلا یااِلٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سایۂ عرش پانے والے خوش نصیب
	 جَوانی میں عِبادت کرنے اور خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ    رکھنے والوں کو مبارَک ہو کہ بروزِ قِیامت جب سورج ایک میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہو گا، سایۂ عرْش کے عِلاوہ اُس جاں گُزا