Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
29 - 40
صالِح وخائف نوجوان
	حضرتسیِّدُنا ذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیْ ایک بار مُلکِ شام تشریف لے گئے، آپ   رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا گزر ایک نہایت سرسبز وشاداب خوش نُما باغ سے ہوا، تو دیکھا کہ ایک نوجوان سیب کے درخت کے نیچے نماز میں مشغول ہے۔آپ   رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو اُس صالِح جوان سے ہم کلامی کا اِشتِیاق ہوا۔ جب اُس نے سلام پھیرا تو آپ نے اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی تو اس نے جواب دینے کے بجائے زمین پر یہ شعر لکھ دیا:
مُنِعَ اللِّسَانُ مِنَ الْکَلَامِ لِاَنَّہٗ	کَھْفُ الْبَلاءِ وَجَالِبُ الْاٰفَاتِ
فَاِذَا نَطَقْتَ فَکُنْ لِّرَبِّکَ ذَاکِرًا	لَا تَنْسَہٗ وَاَحْمِدْہٗ فِیْ الْحَالَاتِ
	یعنی زبان کلام سے روک دی گئی ہے کیونکہ یہ (زبان)طرح طرح کی بلاؤں کا غار اور آفات لانے والی ہے اِس لئے جب بولو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرو،اُسے کسی وقت فراموش نہ کرواورہر حال میں اُس کی حمد بجا لاتے رہو۔
	نوجوان کی اِس تحریر کا آپ   رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قلْبِ انور پر گہرا اَثَر ہوا اور آپ   رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  پر گریہ طاری ہوگیا۔ جب اِفاقہ ہوا توآپ  رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے بھی جواباً زمین پراُنگلی سے یہ اَشعار لکھ دئیے:
وَمَا مِنْ کَاتِبٍ اِلَّا سَیَبْلٰی	وَیُبْقِی الدَّھْرُ مَا کَتَبَتْ یَدَاہٗ