Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
28 - 40
دوران مجھے سخت پیاس لگی تو میں پانی کی تلاش میں ایک وادی کی جانب چل پڑا۔ اچانک میں نے ایک خوفناک آواز سنی، توسوچا:شاید! کوئی درندہ ہے جو میری طرف آ رہا ہے۔ چُنانچِہ میں بھاگنے ہی والا تھاکہ پہاڑوں سے کسی نے مجھے پکار کر کہا: ’’اے انسان! ایسا کوئی معاملہ نہیں جس طرح تم سمجھ رہے ہو، یہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّکا ایک ولی ہے جس نے شدَّتِ حسرت سے ایک لمبی سانس لی تو اُس کی آواز بلند ہو گئی۔‘‘ جب میں اپنے راستے کی جانب واپس پلٹا تو ایک نوجوان کو عبادت میں مشغول پایا۔ میں نے اُسے سلام کیا اور اپنی پیاس کا بتایا تو اُس نے کہا: ’’اے مالک(رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) !اتنی بڑی سلطنت میں تجھے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔‘‘پھر وہ چٹان کی طرف گیا اوراُسے ٹھوکر مارکر کہنے لگا:’’اُس ذات کی قدرت سے  ہمیں پانی سے سیراب کر جو بوسیدہ ہڈیوں کو بھی زندہ فرمانے پر قادر ہے۔‘‘ اچانک چٹان سے پانی ایسے بہنے لگاجیسے چشمے سے بہتاہے۔میں نے جی بھر کر پینے کے بعد عرْض کی:’’مجھے ایسی چیز کی نصیحت فرمایئے جس سے مجھے نفع ہوتا رہے۔‘‘ تو اُس نے کہا: ’’تنہائی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مشغول ہو جائیے،  وہ(رب عَزَّوَجَلَّ) آپ کو جنگلات میں پانی سے سیراب کر دے گا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اپنے راستے پر چلا گیا۔(الروض الفائق، ص۱۶۶، بتصرفٍ)
میری زِندگی بس تیری بندگی میں 		ہی اے کاش! گزرے سدا یا اِلٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد