چاہتا ہے لیکن حوصلہ ساتھ نہیں دیتا، جوانی کو یاد کرتا ہے لیکن جوانی نے تَو واپس آنا نہیں اور بڑھاپے سے اُکتاتا ہے مگر اُس نے بھی جانا نہیں اور نہ اُس وقْت پچھتانے کا کوئی فائدہ ہے۔
جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جا کے نہ آئے وہ جَوانی دیکھی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً جوانی کی عبادت کے بَہُت زِیادہ فضائل ہیں ، جوانی میں عبادت کرنے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھنے والے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کس طرح نوازتا ہے چُنانچِہ
صالِح نوجَوان کو ملنے والا اِنعام
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ 56 صفْحات پر مشتمل رِسالے ’’کراماتِ فاروقِ اَعظم‘‘صَفْحَہ24 پرہے: مُشیرِرسول ، امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک مرتبہ ایک صالِح(یعنی پرہیزگار) نوجوان کیقَبْر پر تشریف لے گئے اورفرمایا: اے فلاں ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وعدہ فرمایا ہے:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ ﴿ۚ۴۶﴾ (پ ۲۷، الرَّحمٰن: ۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے ربّ کے حُضُور کھڑے ہونے سے ڈرے اُس کے لیے دو جنّتیں ہیں۔
اے نوجوان!بتا! تیرا قَبْر میں کیا حال ہے؟ اُس صالِح(باعمل) نوجوان نے قَبْرکے اندر سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام لے کر پکارا اوربآوازِ بلند دو مرتبہ جواب دیا: ’’قَدْ اَعْطَانِیْہِمَا