پلٹیں گے۔
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ عِلْم و عِرْفاں ہے
اُمیدِ مردِ مؤمِن ہے خدا کے راز دانوں میں
اوریہ بھی ذہن نشین رہے کہ عُمْر کے کسی بھی حصّے میں خواہ بڑھاپے میں ہی سہی،
اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کرنا خوش بختوں کا حصّہ ہے ورنہ فی زمانہ کئی حضرات بڑھاپے کی دہلیز پر قدَم رکھنے کے باوُجود مختلف قسم کے کھیلوں اور دیگر حرام کاموں میں سامانِ لذّت تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ جوانی تو پہلے ہی غفلت میں برباد کر دی، بڑھاپے میں بھی توفیقِ خیر نہ ملی، تو اب زندگی کے اور کون سے لمحات ایسے ملیں گے کہ جن میں آخِرت کی تیاری مکن ہو سکے؟
کر نہ پِیری میں تو غفلت اِختِیار زندَگی کا اب نہیں کچھ اِعتِبار
حلق پر ہے موت کے خنجر کی دھار کر بس اب اپنے کو مُردوں میں شُمار
ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے
کرلے جو کرنا ہے آخِر موت ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اپنی جوانی کی قدْر کرنی چاہئے ورنہ بڑھاپے میں بعض اَوقات پچھتاوے کے سائے پریشان کرتے ہیں اور اُس وقْت کچھ بَن نہیں پڑتا، بندہ کچھ کرنا