النُّشورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا ارشادِ پُر نور ہے: ’’جو اسلام میں بوڑھا ہوا ، یہ بُڑھاپا اُس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔‘‘(ترمِذی،کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی فضل من شاب شیبۃ فی سبیل اللہ ،۳/۲۳۷،حدیث:۱۶۴۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
لہٰذا ضعیفُ العُمْراِسلامی بھائی بھی دل چھوٹا نہ کریں اورمایوسی کی کالی گھٹا اپنے اُوپرطاری نہ ہونے دیں کہ’’جب جاگے ہوا سویرا۔‘‘
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جَوانی ہو چکی
یہ بڑھاپا بھی نہ ہو گا ، موت جس دم آ گئی
اگرسفَرِ حیات کے کسی بھی موڑ پر شُعور بیدار ہو جائے تو بھی مایوس نہ ہوں بلکہ اُسے غنیمت تصَوُّر کیجئے اور صبْحِ زندَگی کی شام ہونے سے پہلے پہلے آہ وزاری اور تقوٰی وپرہیزگاری کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے کی کوشِشوں میں مصروف ہو جائیے اور اُمید وبیم (یعنی اُمید وخوف)کے ملے جلے جذبات کے سہارے، دامن پَسارے (پھیلائے)، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف رجوع کیجئے، اِس آیتِ اُمید اَفزا’’لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ‘‘(ترجمۂ کنز الایمان:اللہکی رحمت سے نااُمید نہ ہو۔ (پ۲۴،الزُّمر:۵۳))کو پیشِ نظَر رکھئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نااُمید وخالی دامن نہیں بلکہ مَغفِرَتوں اور بخشِشوں کی دولتِ لازوال سے مالامال ہو کر