Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
23 - 40
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس رِوایت سے معلوم ہوا کہ عبادت گزار جوان یقیناً  خوش بخت ہے،اُس کے لئے بَہُت ساری فضیلتوں اور سعادتوں کی نوید (یعنی خوشخبری) ہے، لیکن اِس طرح کی رِوایات سے کوئی یہ مطلَب اَخْذ نہ کرے کہ بوڑھے توکسی کھاتے میں ہی  نہیں۔ میرے پیارے اسلامی بھائیو! ایسا نہیں ، یاد رکھئے! یہ اِسلامی مُعاشرے کی اِنفرادِیَّت وخصوصِیَّت ہے کہ وہ بوڑھوں اور ضعیفوں کو بھی بلندیوں سے ہم کَنار کرتا ہے، اِسلام میں بوڑھوں کو بوجھ سمجھ کر گھر سے نکال دینے اور انہیں کسی اِدارے میں ’’جمع‘‘ کروا دینے کا کوئی تصوُّر نہیں ، اِسلام کا طرَّۂ اِمتِیاز ہے کہ اِس دینِ مُبین میں بلا تفریقِ رنگ ونسل و بلا اِمتِیازِ عُمْر وقد ہر مسلمان اپنا خاص مَقام رکھتا ہے، جس کا لِحاظ رکھنا دوسرے مسلمان پر لازِم ہے، اِس کی مختصَر وضاحت دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32صفْحات پر مشتَمِل ’’اِحترامِ مُسلم ‘‘ نامی رِسالہ میں بھی کی گئی ہے۔ الغرَض! ہر مسلمان خواہ وہ بوڑھا ہو یا جَوان، نظرِ اِسلام میں اُس کی خاص اَہَمِّیَّت وشان ہے۔چنانچہ 
بُڑھاپے کے فضائِل
	 محبوبِ ربِّ ذُوالجَلال،بی بی آمِنہ کے لالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ باکَمال ہے: ’’سفید بال نہ اُکھاڑو کیونکہ وہ مسلم کا نور ہے،جو شخص اِسلام میں بوڑھا ہوااللہ عَزَّوَجَلَّاس کی وجہ سے اُس کے لئے نیکی لکھے گا اور خطا مٹا دے گا اور درَجہ بلند کرے گا۔‘‘
(ابوداؤد، کتاب الترجل، باب فی نتف الشیب، ۴/۱۱۵، حدیث: ۴۲۰۲) 
	حضرتِ سیِّدُنا کَعْب بن مُرَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت ہے کہ حضور پُرنور، شافِعِ یَوْمُ