Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
22 - 40
عبادات کا اصل وقت جوانی ہے۔شعر
کر جوانی میں عبادت کاہلی اچھی نہیں 	جب بڑھاپا آگیا کچھ بات بن پڑتی نہیں
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جوانی ہوچکی	 یہ بڑھاپا بھی نہ ہوگا موت جس دم آگئی
وقت کی قدر کرو،اسے غنیمت جانو۔ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔‘‘(مراٰۃ المناجیح، ۳/۱۶۷)اور خصوصاً ایّامِ جوانی کے اَوقات کی قدْر دانی بَہُت ضروری ہے کیونکہ جوانی میں انسان کے اَعضاء مضبوط اور طاقتورہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے اَحکام وعبادات کی بجاآوری، تَنْدَہی اور بڑی خوش اُسلوبی کے ساتھ ممکن ہوتی ہے، بُڑھاپے میں پھر یہ بہاریں کہاں نصیب! اُس وقْت تو مسجد تک جانا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ بھوک پیاس کی شدّت کوبرداشْت کرنے کی ہِمّت بھی نہیں رہتی، نفْل تو کُجا فرْض روزے پورے کرنا بھی بھاری پڑجاتے ہیں اور ویسے بھی جَوانی کی عبادت اِمتِیازی حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ
عبادت گزار جوان کی فضیلت
	حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے، نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالتَّسْلِیْم کا اِرشادِ عظیم ہے: ’’صبح کے وقت عبادت کرنے والے نوجوان کو بڑھاپے میں عبادت کرنے والے بوڑھے پر ایسی ہی فضیلت حاصل ہے کہ جیسی  مُرسَلِین (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کو تمام لوگوں پر۔‘‘(جمع الجوامع،۵/۲۳۵،حدیث:۱۴۷۶۹) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد