اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حقیقی بندہ
حضر ت سیّدناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی مخلوق میں اس خوبرو نوجوان کو سب سے زیادہ پسند فرماتا ہے کہ جس نے اپنی جوانی اور حسن و جمال کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں صَرف کر دیا ہو ، اللہ عَزَّوَجَلَّفرشتوں کے سامنے ایسے بندے پر فخرکرتا اور ارشادفرماتا ہے:’’یہ میرا حقیقی بندہ ہے ۔‘‘
(الترغیب فی فضائل الاعمال،باب فضل عبادۃ الشاب الخ،ص۷۸ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! کتنے خوش بخت ہیں وہ نوجوان جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں محبوبِیَّت کا شرَف حاصل ہو جائے، جن کی جوانی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت میں گزری، باوُجود قدرت کے جن کا دامن نفس کی چالوں اورشیطان کے جالوں میں نہ اُلجھا اور جن پرخوفِ خدا کا غلَبہ رہا، اُن خوش نصیبوں کے لئے ذِکْرکردہ روایَتِ مُبارَکہ مُژدۂ جاں فِزا ہے اور ایسا نوجوان مُعاشَرے میں بھی مَقام ومرتبہ اور عزت وعظمت کا حامل ہے۔
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
باحیا نوجوان
جوانی کی بہاروں کو مدینے کی خوشبوؤں سے مُعطَّر کرنے ،عالَمِ شباب کو گناہوں کے