یہ فضائل بخشے ، رب عَزَّ مَجْدُہٗ نے فرمایا : ( ( أَعْطَيْتُكَ خَيْرًا مِنْ ذٰلِكَ -اِلٰی قَوْلِهٖ : -خَبَأْتُ شَفَاعَتَكَ وَلَمْ أَخْبَأْهَا النَّبِيَّ غَيْرَكَ) ) ( 1) میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے ، میں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی ۔
حدیث ۲۶ :
ابنِ ابی شیبہ و ترمذی بافادۂ تحسین وتصحیح اور ابنِ ماجہ و حاکم بحکمِ تصحیح حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ( ( إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ کُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّيْنَ وَخَطِيْبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ) ) ( 2) قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوااور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے (3 ) نہیں فرماتا ۔
حدیث ۲۷ تا ۴۰ :
ابنِ مَنِیع حضرت زید بن اَرقم وغیرہ چودہ صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے راوی ، حضرت شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ( ( شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِهَا لَمْ يَکُنْ مِنْ أَهْلِهَا) ) (4 ) میری شفاعت روزِ قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا ۔
________________________________
1 - الشفا ، الباب الثالث ، الفصل الاول ، ص۱۷۰ ، الجزء الاول ( عن ابن وھب ) ۔
2 - مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الفضائل ، ما اعطی اللہ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱۶/۳۸۷ ، حدیث : ۳۲۲۹۷ ۔
ترمذی ، کتاب المناقب ، باب ما جاء فی فضل النبی ، ۵/۳۵۳ ، حدیث : ۳۶۳۳ ۔
ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر الشفاعۃ ، ۴/۵۲۷ ، حدیث : ۴۳۱۴ ۔
مستدرک حاکم ، کتاب الایمان ، اذا کان یوم القیامۃ ... الخ ، ۱/۲۵۱ ، حدیث : ۲۴۹ ۔
3 - یعنی بطورِ فخر ۔
4 - جامع صغیر ، حرف الشین ، ص۳۰۱ ، حدیث : ۴۸۹۶ ( عن ابن منیع) ۔
المطالب العالیۃ ، کتاب الفتن ، باب الشفاعۃ ، ۸/ ۶۹۱ ، حدیث : ۴۵۵۵ ۔