اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْم ( بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف لوٹنا ہے ، عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں اور اللہ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ۔ ت)
حدیث ۲۴ :
’’صحیح مسلم‘‘ میں حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوِی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے ، میں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی : ( ( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي) ) الٰہی ! میری اُمت کی مغفرت فرما ، الٰہی ! میری اُمت کی مغفرت فرما ۔ ( ( وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إلَیَّ فِيْهِ الْخَلْقُ حَتّٰی إِبْرَاهِيْم) ) ( 1) اور تیسری عرض اُس دن کے لیے اُٹھا رکھی( 2) جس میں مخلوقِ الٰہی میری طرف نیاز مند(3 ) ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیلُ اللہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔
وَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن ( اور دُرود و سلام و برکت نازل فرما اُن پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت)
حدیث ۲۵ :
بیہقی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے شبِ اَسریٰ اپنے ربّ سے عرض کی : تو نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو یہ
________________________________
1 - مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین ، باب بیان انّ القرآن علی سبعۃ ... الخ ، ص۳۱۸ ، حدیث : ۱۹۰۴ ۔
2 - باقی رکھی ۔
3 - محتاج ۔