مُنْکِرمسکین( 1) اس حدیثِ مُتَواتر(2 ) کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعتِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ایمان لائے ۔
اَللهم إِنَّكَ تَعْلَمُ هَدَيْتَ فَاٰمَنَّا بِشَفَاعَةِ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِهَا فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَهْلَ التَّقْوٰی وَاَهْلَ الْمَغْفِرَةِ وَاجْعَلْ أَشْرَفَ صَلَوَاتِكَ وَأَنْمٰی بَرَکَاتِكَ وَأَزْکٰی تَحِيَّاتِكَ عَلٰی هٰذَا الْحَبِيْبِ الْمُجْتَبٰی وَالشَّفِيْعِ الْمُرْتَجٰی وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ دَائِمًا أَبَدًا ، آمِيْن يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
( اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو جانتا ہے ، بے شک تو نے ہدایت عطا فرمائی ہے تو ہم تیرے حبیب محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں ۔ اے اللہ ! تو ہمیں دُنیا وآخرت میں لائِقِ شفاعت بنادے ۔ اے تقویٰ ومغفرت والے ! اپنا افضل درود ، اکثر بَرکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اُس منتخب محبوب پر جن کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور ان کی آل اور اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔ اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دُعا کو قبول فرما ۔ اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پَروَرْدگار ہے ۔ ت)
________________________________
1 - یعنی انکار کرنے والا بے چارہ ۔
2 - حدیثِ متواتر : وہ حدیث جس کو سَنَد کے ہر طبقہ میں راویوں کی اتنی بڑی تعداد روایت کرے جس کا جھوٹ پر متفق ہونا عقلاً محال ہو اور سند کی انتہاء اَمرِحِسِّی پر ہو ۔ حدیث کے درجۂ تواتر تک پہنچنے کیلئے چار شرائط ہیں : ( 1) حدیث کے راوی کثیر ہوں ۔ ( 2) یہ کثرت سند کے تمام طبقات میں پائی جائے یعنی ابتداء سے انتہاء تک راوی کثیر ہوں ۔ ( 3) یہ کثرت اس درجہ کی ہوکہ عادۃً یا اتفاقاً اُن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو ۔ ( 4) سند کی انتہاء امرِ حسی پر ہو ۔ ( نصاب اصول حدیث ، ص۳۱)