Brailvi Books

احترام مسلم
33 - 35
کے حق میں  دعائے خیر کرتے ہیں  (تَنبیہُ الغافِلین ص۷۳) خدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1196 صفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد3 صَفْحَہ 558تا560پرہے:صِلَۂ رِحْمکے معنیٰ رِشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں  کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا۔ ساری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہصِلَۂ رِحْم ’’ واجِب ‘‘ہے اورقطع رِحم(یعنی رشتہ توڑنا)’’ حرام ‘‘ہے۔جن رشتے والوں  کے ساتھ صلۂ(رِحم) واجب ہے وہ کون ہیں ؟ بعض علما نے فرمایا: وہ ذو رِحم محرم ہیں  اور بعض نے فرمایا: اس سے مراد ذو رحم ہیں ،محرم ہوں  یا نہ ہوں۔ اور ظاہر یہی قولِ دوم ہے، احادیث میں مطلقاً (یعنی بغیر کسی قید کے ) رشتے والوں  کے ساتھ صلہ(یعنی سلوک )  کرنے کا حکم آتا ہے، قرآنِ مجید میں  مطلقاً (یعنی بلا قید ) ذوِی القربیٰ (یعنی قرابت والے)فرمایا گیا مگر یہ بات ضرور ہے کہ رِشتے میں  چونکہ مختلف دَرَجات ہیں  (اِسی طرح) صلۂ رحم(یعنی رشتے داروں  سے حسن سلوک) کے دَرَجات میں  بھی تفاوت(یعنی فرق) ہوتا ہے۔ والدین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے، ان کے بعد ذُورحم محرم کا ، ( یعنی وہ رشتے دار جن سے نسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کیلئے حرام ہو ) ان کے بعد بقیہ رشتے والوں  کا علیٰ قدر ِمراتب۔(یعنی رشتے میں  نزدیکی کی ترتیب کے مطابق)(رَدُّالْمُحتار ج۹ ص ۶۷۸)خصلۂ رِحمی( یعنی رِشتے داروں  کے ساتھ سلوک) کی مختلف صورَتیں  ہیں ، اِن کو ہدیہ و تحفہ دینا اور اگر ان کو کسی بات میں  تمہاری اِعانت (یعنی امداد)درکار ہو تو اِس کا م میں  ان کی مدد کرنا، انہیں  سلام کرنا،ان کی ملاقات کو جانا، ان کے پاس اُٹھنا بیٹھنا، ان سے بات چیت کرنا،