ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا (دُرَر ج۱ ص۳۲۳ )خاگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتے والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط وکتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلقی پیدا نہ ہونے پائے اور ہوسکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے تعلقات تازہ کرلے، اِس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں اِضافہ ہوگا۔ (رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۶۷۸)( فون یا انٹرنیٹ کے ذَرِیعے بھی رابطے کی ترکیب مفید ہے)خ صلہ ٔرحمی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک ) اِسی کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مکافاۃ یعنی اَدلا بدلا کرنا ہے کہ اُس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اُس کے پاس بھیج دی، وہ تمہارے یہاں آیا تم اُس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صلۂ رِحم(یعنی کامل دَرَجے کا صلۂ رِحم )یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے، بے اِعتنائی (بے۔اِع ۔تے۔ نائی ۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اُس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات (یعنی لحاظ ورعایت) کرو۔ (ایضاً)
ہزاروں سنتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کتب (۱) 312 صفحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ16 اور(۲) 120صفحات کی کتاب’’ سنتیں اور آد ا ب ‘ ‘ ہد یَّۃً حاصل کیجئے اور پڑھئے۔ سنتوں کی تربیت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوت اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنتوں بھرا سفر بھی ہے۔
لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو سیکھنے سنتیں قافلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد