نرمی تھی اور ہشاش بشاش رہتے خ نہ چلاتے خ سخت گفتگو نہ فرماتے خ کسی کو عیب نہ لگاتے خ بخل نہ فرماتے خ اپنی ذاتِ والا کو بالخصوص تین چیزوں ، جھگڑ ے ، تکبر اور بے کار باتوں سے بچا کر رکھتیخکسی کا عیب تلاش نہ کر تے خصرف وہی بات کرتے جو(آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں)باعث ثواب ہو خمسافریا اجنبی آدَمی کے سخت کلامی بھرے سوال پربھی صبر فرما تیخکسی کی بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تواُس کو منع فرماتے یا وَہاں سے اُٹھ جاتے ۱؎ خ سادَگی کا عالم یہ تھا کہ بیٹھنے کیلئے کوئی مخصوص جگہ بھی نہ رکھی تھی ۲؎خکبھی چٹائی پر توکبھی یوں ہی زمین پربھی آرام فرما لیتے ۳؎ خکبھی قہقہہ (یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسرے لوگ ہوں تو سُن لیں )نہ لگاتے ۴؎خصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرماتے ہیں : آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے(یعنی موقع کی مناسبت سے ) ۵؎ حضرت عبدُاللہ بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ مسکرانے والاکوئی نہیں دیکھا۔ ۶؎
یا الٰہی! جب بہیں آنکھیں حسابِ جرم میں
اُن تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کا ساتھ ہو (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎شمائل ترمذی ص۱۹۹۔۲۰۰ مُلَخَّصاً۔۲؎ اَخلاقُ النّبی وآدابہ ص۱۵۔۳؎ وسائل الوصول ص۱۸۹۔
۴؎ اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ص۴۴۶۔۵ ؎ اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ص۴۵۳۔۶؎ شمائل ترمذی ص۱۳۶۔