Brailvi Books

احترام مسلم
29 - 35
سخاوت وخوش خُلقی ہر ایک کے لئے عام تھیخآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی مجلس علم ، بردباری،حیا،صبر اور اَمانت کی مجلس تھیخ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مجلس میں  شوروغل ہوتا نہ کسی کی تذلیل(یعنی بے عزتی) خآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مجلس میں  اگر کسی سے کوئی بھول ہوجاتی تو اُس کوشہرت نہ دی جاتی۱؎خجب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ فرماتے۲؎خ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کسی کے چہرے پر نظریں  نہ گاڑتے تھے۳؎  خآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے۴؎ خ سلام میں  پہل فرماتے ۵؎خبچوں  کو بھی سلام کرتے خ جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو پکارتا، جواب میں ’’ لَبَّیک‘‘(یعنی میں  حاضرہوں  )  فرماتے   ۶؎  خاہل مجلس کی طرف پاؤں  نہ پھیلاتے خاکثر قبلہ رو بیٹھتے خاپنی ذات کیلئے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیتے خ برائی کا بدلہ برائی سے دینے کے بجائے معاف فرما دیا کرتے ۷؎خراہِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  میں  جہاد کے سوا کبھی کسی کو اپنے مبارَک ہاتھ سے نہ مارا، نہ کسی غلام کو نہ ہی کسی عورت(یعنی زَوجہ وغیرہ) کومارا ۸    خ گفتگو میں  نرمی ہوتی، ۹؎  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    نے فرمایا: ’’اللہ تَعَالٰیکے نزدیک بروزِ قیامت لوگوں  میں  سب سے براوہ ہے جس کو اُس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ چھوڑدیں  ‘‘۱۰؎ خآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    بات کرتے تو (اِس قدر ٹھہراؤ  ہوتا کہ) لفظوں  کو گننے والا گن سکتا تھا ۱۱؎خ طبیعت میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱     شمائل ترمذی ص۱۹۲۔۱۹۳ وغیرہ  مُلَخَّصاً ۔۲؎  شُعَبُ الْاِیمان حدیث۱۴۳۰ ۔۳؎   اِحیاء الْعُلوم ج ۲ ص ۴۴۲ ۔ ۴؎شمائل ترمذی ص۲۰۳۔۵؎   شُعَبُ الْاِیمان حدیث۱۴۳۰۔۶؎  وسائل الوصول ص۲۰۷۔۷؎  اِحیاء الْعُلوم ج ۲ ص ۴۴۸، ۴۴۹ ۔  ۸؎شمائل ترمذی ص۱۹۷۔۹؎  اِحیاء الْعُلوم ج۲ص۴۵۱۔۱۰؎   مُسلِم ص۱۳۹۸ حدیث ۲۵۹۱۔ 
۱۱   بخاری حدیث ۳۵۶۷