Brailvi Books

احترام مسلم
28 - 35
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے اَخلاقِ حسنہ کی چند جھلکیاں  پیش کرنے کی کوشش کروں  گا جو بالخصوص احترام مسلمکیلئے ہماری رہنما ہیں۔  
خسلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتیخآنے والوں  کو مَحبت دیتے، ایسی کوئی بات یاکام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہوخقوم کے معزز فرد کالحاظ فرماتے اور اُس کو قوم کا سردار مقرر فرما دیتے خ لوگوں  کو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے خوف کی تلقین فرماتیخصَحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی خبر گیری فرماتے خلوگوں  کی اچھی باتوں  کی اچھائی بیان کرتے اور ا س کی تقویت فرماتے،بری چیز کو بری بتاتے اور اُس پر عمل سے روکتے خ ہر معاملے میں  اِعتدال (یعنی میانہ روی)سے کام لیتے خلوگوں  کی اِصلاح سے کبھی بھی غفلت نہ فرماتے خ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اٹھتے بیٹھتے (یعنی ہر وقت )ذِکْرُاللہ کرتے رہتے خ جب کہیں  تشریف لے جاتے تو جہاں  جگہ مل جاتی وَہیں  بیٹھ جاتے اور دوسروں کوبھی اسی کی تلقین فرماتے خ اپنے پاس بیٹھنے والے کے حقوق کا لحاظ رکھتے خآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں  حاضر رہنے والے ہر فرد کو یہی محسوس ہوتا کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   مجھے سب سے زِیادہ چاہتے ہیں خ خد متِ بابرکت میں  حاضر ہوکر گفتگو کرنے والے کے ساتھ اُس وَقت تک تشریف فرما رہتے جب تک وہ خود نہ چلا جائے خجب کسی سے مصافحہ فرماتے(یعنی ہاتھ ملاتے)تواپناہاتھ کھینچنے میں پہل نہ فرماتے خ سائل (یعنی مانگنے والے) کو عطا فرماتے خآ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی