کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جائے اور بلا اجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے ۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا،نہ کسی پر طنز کیا،نہ کسی کا مذاق اڑایا نہ کسی کو دُھتکارا نہ کبھی کسی کی بے عزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا ،بلکہ ؎
لگاتے ہیں اُس کو بھی سینے سے آقا
جو ہوتا نہیں منہ لگانے کے قابل
اُسوۂ حَسَنَہ
احترام مسلمبجالانے کیلئے ہمیں اپنے پیارے پیارے آقا، مد ینے والے مصطَفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُسوئہ حسنہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کی پیروی کرنی ہوگی ۔ پارہ21 سُوْرَۃُ الْاَحْزَابآیت نمبر 21 میں ارشاد ہوتا ہے:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیۡ رَسُوۡلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
ترجَمۂ کنزالایمان: بے شک تمہیں رسولُ اللہ کی پیروی بہتر ہے۔
اَخلاقِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جھلکیاں
میٹھے میٹھے آقا،مکّے مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یقیناتمام مخلوقات میں سب سے زیادہ مکرم ، معظم اورمحترم ہیں اور ہر حال میں آپ کا احترام کرنا ہم پر فرض اعظم ہے ۔اب آپ حضرات کی خدمت میں سیِّدُ المُرسَلِین،جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین