Brailvi Books

احترام مسلم
24 - 35
گردن پھلانگنا
	 جو لوگ جمعہ کو پہلے سے اگلی صفوں  میں  بیٹھ چکے ہوں ، دیر سے آنے والے کو اُن کی گردنوں  کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔چنانچِہ سرکارِ  مدینۂ منوّرہ، سردارِ مکّۂ مکرمہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فرمانِ عبرت نشان ہے  :’’ جس  نےجُمُعہ کے دن لوگوں  کی گردنیں  پھلانگیں  اُس نے جہنَّم کی طرف پل بنایا۔‘‘  (تِرمِذی ج۲ص۴۸حدیث۵۱۳) اس کے ایک معنیٰ یہ ہیں  کہ اس پر چڑھ چڑھ کر لوگ جہنَّم میں  داخِل ہو ں  گے۔ 	(حاشیۂ بہارِ شریعت ج۱ص۷۶۱،۷۶۲)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نمازِ جمعہ کیلئے جلدمسجد میں  حاضر ہوجانا چاہئے، اگر دیر ہو گئی ،خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں  جہاں  پہنچا تھا وہیں  رُک جائے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے۔ یہاں  تک علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں  کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں  جہاں  تک پہنچا وَہیں  رُک جائے ، آگے نہ بڑھے کہ یہ عمل ہو گا اور حالِ خطبہ میں  کوئی عمل رَوا( یعنی جائز ) نہیں۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۳۳۳)مزیدفرماتے ہیں :خطبے میں  کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا ( بھی) حرام ہے۔ (اَیضاًص۳۳۴)