Brailvi Books

احترام مسلم
23 - 35
فرمایا:’’مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اُس کا بھائی اُسے دیکھے اُس کیلئے سرک جائے۔‘‘
(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۴۶۸ حدیث۸۹۳۳)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں  مسلسل سفرکی سعادت اور ہر مَدَنی ماہ مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے جمع کروانے کی بَرَکت سے  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  بطفیل مصطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تھوڑی سی جگہ میں  برکت ہوگی دوسروں  کیلئے سرکنے کی سنت پر عمل کا ذِہن بنے گااور  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  جنَّتُ الْبَقِیع میں  کُشادَہ ترین جگہ نصیب ہوگی۔    ؎      
زاہدینِ دُنیا بھی رَشک کرتے عاصی پر
میں  بقیعِ غرقد میں  دَفن ہو اگر جاتا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
 دوسروں  سے چُھپا کر بات کر نا
	حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ   کا بیان ہے کہ رسولِ اکرم، رَحمتِ عالم، نورِ مجسم،شاہِ بنی آدم،نبیِّ مُحتَشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم تین ہو تو دوشخص تیسرے کو چھوڑ کر چپکے چپکے باتیں  نہ کریں  جب تک مجلس میں  بہت سے لوگ نہ  آ جائیں  ، یہ اِس وجہ سے کہ اس تیسرے کو رنج پہنچے گا۔‘‘ (بُخاری ج۴ ص۱۸۵ حدیث ۶۲۹۰ ) (کہ شاید میرے متعلق کچھ کہہ رہے ہیں  یا یہ کہ مجھے اِس لائق نہ سمجھا جواپنی گفتگو میں  شریک کرتے وغیرہ )