Brailvi Books

احترام مسلم
22 - 35
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
زِیادہ جگہ نہ گھیرئیے
	اجتماعات وغیرہ میں  جہاں  لوگ زیادہ ہوں  وہاں  اپنی سہولت کیلئے زیادہ جگہ گھیر کر دوسروں  کیلئے تنگی کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ چنانچِہ حضرت سیِّدُنا سہل بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا بیان ہے ،میرے والد گرامی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ ہم پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ جہاد میں  گئے تو لوگوں  نے منزلیں تنگ کردیں  (یعنی ضرورت سے زیادہ جگہ گھیر لی)اور راستہ روک لیا۔اِس پر  رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ایک آدَمی کو بھیجا کہ وہ یہ اعلان کرے،’’بیشک جو منزلیں  تنگ کرے یا راستہ روکے تو اُس کا کچھ جہاد نہیں۔‘‘
(ابوداوٗد ج۳ ص۵۸ حدیث۲۶۲۹)
آنیوا لے کیلئے سَرَکنا سُنّت ہے
     جو لوگ پہلے سے بیٹھے ہوں  اُن کے لئے سنت یہ ہے کہ جب کوئی آئے تو اس کیلئے سرکیں  ۔ حضرتِ سیِّدُنا واثلہ بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ ایک شخص تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں  حاضرہوا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد میں  تشریف فرما تھے ۔ رَحمتِ دو عالم ،نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم،رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُس کیلئے اپنی جگہ سے سرک گئے۔اُس نے عرض کی:  یَا رَسُولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جگہ کشادہ موجود ہے،(آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سرکنے کی تکلیف کیوں  فرمائی! )