Brailvi Books

احترام مسلم
20 - 35
کاموں  کی تقسیم 
	دَورانِ سفر کسی ایک پر سارا بوجھ ڈالدینے کے بجائے کاموں  کی آپس میں  تقسیم ہونی چاہئے ۔چنانچِہ ایک مرتبہ کسی سفر میں  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اورکام تقسیم کرلیا،کسی نے اپنے ذِمے ذبح کا کام لیا تو کسی نے کھال اُدَھیڑنے کا نیز کوئی پکانے کا ذِمے دار ہوگیا ،سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: لکڑیاں  جمع کرنا میرے ذمے ہے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  عرض گزار ہوئے: آقا!یہ بھی ہم ہی کرلیں  گے ۔ فرمایا:’’یہ تو میں بھی جانتا ہوں  کہ تم یہ کام (بخوشی) کر لو گے مگر مجھے یہ پسند نہیں  کہ تم لوگوں  میں  نمایاں  رہوں  اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ  بھی اِس کو پسند نہیں  فرماتا۔‘‘
(خلاصۃ سیر سید البشر لمحب الدین الطبری ص۷۵ ملخّصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دوسروں  کو اپنی نشست پر جگہ د یجئے
	 ٹرین یا بس وغیرہ میں  اگرنشستیں  کم ہوں  تو یہ نہیں  ہونا چاہئے کہ بعض بیٹھے ہی رہیں  اور بعض کھڑے کھڑے ہی سفر کریں  ۔ہونا یہ چاہئے کہ موقع محل کی مناسبت سے سارے باری باری بیٹھیں  اودوسروں  کیلئے اپنی نشست ایثار کرکے ثواب کمائیں اور سیٹ ایثار کرکے اس صورت میں  بھی ثواب کمایا جاسکتاہے جبکہ سیٹ کی بکنگ کروارکھی ہو کہ بکنگ کروانے سے ایثار کرنا کوئی منع نہیں  ہوجاتا۔حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ