صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ما تَحْتوں کے بار ے میں سُوال ہوگا
ایک امیرقافلہ ہی نہیں ،ہرایک کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ضروری ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،دانائے غُیُوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ہِدایت نشان ہے:’’تم میں سے ہرایک نگران ہے اور نگرانی کے متعلق سب سے پوچھ گچھ ہوگی بادشاہ نگران ہے ،اُس کی رَعایاکے بارے میں اُس سے سُوال ہوگااور مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس کی رَعایا کے بارے میں اُس سے سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگران ہے اوراس کی رَعایا کے بارے میں اس سے سوال ہوگا۔‘‘
( بُخاری ج۲ ص۱۱۲ حدیث۲۴۰۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر ما ہ جمع کروانے کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بطفیل مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے ماتحتوں کے احترام کا وہ جذبہ نصیب ہوگاکہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر فرد خوش ہوکر آپ کو’’ دعائے مدینہ‘‘ سے نوازا کر ے گا۔ ؎
میں دنیا کی دولت کا منگتا نہیں ہوں
مجھے بھائیو! دو دعائے مدینہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد