Brailvi Books

احترام مسلم
18 - 35
محلہ باغِ مدینہ بن جائے گا۔     ؎
بہار آئے محلے میں  مرے بھی یَا رَسُولَ اللہ
اِدھر بھی تو جھڑی برسے کوئی رحمت کے بادل سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیرِ قافِلہ کیسا ہو؟
	سفر میں جو امیر قافلہ ہو اُس کواپنے رُفقا کا اِحترام اور ان کی بہت زیا د ہ خدمت کرنی چاہئے۔ چنانچِہ  فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ’’سفر میں  وُہی امیر ہے جو اُن کی خدمت کرے، جو شخص خدمت میں  بڑھ گیا تواُس کے رُفقا کسی عمل میں  اُس سے نہیں  بڑھ سکتے ہاں  اگر ان میں  سے کوئی شہید ہوجائے تو وُہی بڑھ جا ئے گا۔‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۳۳۴ حدیث۸۴۰۷)
بچی ہوئی چیزیں  دوسروں کو دینے کی ترغیب
	ایک موقع پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سفر میں  ارشاد فرمایا: ’’جس کے پاس زائد سُواری ہو وہ بے سُواری والے کوعطا کردے اور جس کے پاس بچی ہوئی خُوراک ہو وہ بغیرخوراک والے کوکھلا دے‘‘ اور اِسی طرح دوسری چیزوں  کے متعلق ارشاد فرمایا۔ حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِسی طرح مال کی مختلف اَقسام ذِکر فرمائیں  حتّٰی کہ ہم نے محسوس کیاکہ بچی ہوئی چیز میں  سے کسی کو اپنے پاس رکھ لینے کا حق ہی نہیں  ہے۔
(مُسلِم ص۹۵۲ حدیث۱۷۲۸)