دیکھا ہے۔‘‘ خواتین نے عرض کی: یا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس کی وجہ ؟ فرمایا: ’’اس لئے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اوراپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ ‘‘
( بُخاری ج۱ ص۱۲۳ حدیث۳۰۴)
پڑوسیوں کی اَہَمِّیّت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور بلا مصلحت شرعی ان کے احترام میں کمی نہ کرے۔ ایک شخص نے حضور سراپائے نور،فیض گنجور،شاہِ غیور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ باعظمت میں عرض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے یہ کیوں کر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برا ؟ فرمایا: ’’جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا، تو بیشک تم نے اچھا کیا اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برا کیا ،تو بے شک تم نے برا کیاہے۔ ‘‘
( اِبن ماجہ ج۴ ص۴۷۹ حدیث۴۲۲۳)
اعلیٰ کردار کی سند
اللہُ اکبر!پڑوسیوں کی اس قدر اَہَمِّیَّت کہ’’ کیریکٹر سر ٹیفکیٹ‘‘ ان کے ذَرِیعے ملے ۔ افسوس !پھر بھی آج پڑوسیوں کو کوئی خاطِر میں نہیں لاتا۔ عاشقان رسول کے مَدَنی قافِلے میں سفرکی سعادت اور ہر مَدَنی ماہمَدَنی اِنعامات کا رسالہ پر کر کے جمع کروانے کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بطفیل مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑوسیوں کی اَہَمِّیَّت دل میں پیدا ہوگی اور ان کے احترا م کا ذِہن بنے گا اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کا