Brailvi Books

احترام مسلم
16 - 35
مدینے والے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ خوشبودار ہے:’’قسم ہے اُس کی جس کے قبضۂِ قدرت میں میری جان ہے، اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں  زخم ہوں  جن سے پیپ اور کچ لہو(یعنی پیپ ملا خون) بہتا ہو پھر عورت اُسے چاٹے تب بھی حق شوہر ادا نہ کیا۔‘‘
(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل  ج۴ ص۳۱۸ حدیث۱۲۶۱۴)
شو ہر کا گھر نہ چھوڑ ے
    با ت بات پر رُوٹھ کر میکے چلی جانے والی عورَت اِس حدیثِ پاک کو بار بار اپنے کا نوں  پر دوہرائے اور دل کی گہرائیوں  میں  اُتارے ،سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:اور (بیوی )بغیر اجازت اُس (یعنی شوہر ) کے گھر سے نہ جائے اگر(بلاضرورت ) ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے یاواپس لوٹ نہ آئے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اور فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔
(کَنْزُ الْعُمّال ج۱۶ ص۱۴۴ حدیث ۴۴۸۰۱  مُلَخَّصاً  ) 
اکثر عورَتیں  جہنّمی ہونے کا سبب
     بعض خواتین اپنے شوہروں  کی سخت نافرمانیاں اور نا شکریاں  کرتی ہیں  اور ذرا کوئی بات بری لگ جائے تو پچھلے تمام اِحسانات بھلا کر کوسنا شروع کردیتی ہیں۔ جو اسلامی بہنیں  بات بات پر لعنت ملامت کرتی اور پھٹکار برساتی رہتی ہیں ان کو ڈرجانا چاہئے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ایک بار عید کے روز عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے خواتین کی طرف گزرے تو فرمایا:’’اے عَورَتو! صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم کو جہنَّمی