یتیم کے سر پرمحض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کے مقابل میں اُس کیلئے نیکیاں ہیں اور جو شخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر اِحسان کرے میں اور وہ جنت میں (دوانگلیوں کو ملا کر فرمایا)اس طرح ہو ں گے۔‘‘ (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۸ ص۲۷۲ حدیث۲۲۲۱۵)
یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی۔ نبیِّ رحمت،شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔‘‘ (ایضاًج۳ص۳۳۵حدیث۹۰۲۸)
بے چین دلوں کے چین،رحمتِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کی طرف لے آئے اور بچّے کا باپ ہو تو ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔‘‘ (مُعْجَم اَ وْسَط ج۱ ص۳۵۱ حدیث۱۲۷۹)
عورت سے نبہانے کی کوشش کیجئے
مرد کو چاہئے کہ اپنی زَوجہ کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔اور اُس کو حکمتِ عملی کے ساتھ چلائے۔ چنانچِہ میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ حکمت نشان ہے: ’’بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے تمہارے لئے کسی طرح سیدھی نہیں ہوسکتی اگر تم اس سے نفع چاہتے ہوتو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نفع حاصِل کرسکتے ہو اور اگر اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ ڈالو گے