Brailvi Books

احترام مسلم
12 - 35
ناراض رِشتے داروں  سے صلح کرلیجئے
	   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میری آپ سے مَدَنی اِلتجا ہے کہ اگر آپ کی کسی رِشتے دار سے ناراضی ہے تو اگرچہ رِشتے دارہی کاقصور ہوصلح کیلئے خود پہل کیجئے اورخود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اُس سے مل کر تعلُّقات سنوار لیجئے۔ہاں  اگر کوئی شَرعی مصلحت مانع(یعنی رُکاوٹ) ہے تو بے شک صلح نہ کی جائے۔ عاشقان رسول کے مَدَنی قافلوں  میں  سنتوں  کی تربیت کے لیے سنتوں  بھرا سفر اورروزانہ’’ فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیعے مَدَنی اِنعامات  کارِسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں  کے ذِمے دار کو جمع کروانے کی   برکت سے  اِنْ شَآءَاللہ تعالیٰ بطفیلِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  احترام مسلم کا آپ کے اندر وہ دَرد پیدا ہوگا کہ تمام روٹھے ہوئے رشتے داروں  سے نہ صرف صلح ہوجائے گی بلکہ وہ   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے بھی وابستہ ہوجائیں گے۔   ؎  
سب شکر رنجیاں 		دور ہوں  گی میاں
قافِلے میں  چلیں 		قافلے میں  چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت
       جس بچے یا بچی کا باپ فوت ہوجائے اُس کو یتیم کہتے ہیں۔ جب بچہ بالغ یا بچی بالغہ ہوگئی تو اب یتیم کے اَحکام ختم ہوئے ۔یتیموں  کے ساتھ حسن سلوک کا بھی بڑا ثواب ہے۔
چنانچہ رسولِ کریم ، ر ء وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عظیم ہے: ’’جو شخص