رشتے دار دوسرے ملک میں ہوں تو کیاکرے؟
اگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتے والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط و کتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلقی پیدا نہ ہونے پائے اور ہوسکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے تعلقات تازہ کرلے، اِس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں اِضافہ ہوگا۔ (رَدُّالْمُحتارج۹ ص ۶۷۸) فی زمانہ رابطہ نہایت آسان ہے، خط پہنچنے میں کافی دیر لگتی ، ہوسکے تو فون اورای میل کے ذَرِیعے بھی رابِطہ رکھا جا سکتا ہے کہ یہ بھی اِزدِیادحب( یعنی محبت بڑھانے ) کے ذرائع ہیں ۔
قطع رِحم کی ایک صورت
جب اپنا کوئی رشتے دار کوئی حاجت پیش کرے تو اس کی حاجت روائی کرے، اس کو رَد کر دینا قطع رِحم(یعنی رشتہ کاٹنا) ہے۔(دُرَر، ص۳۲۳)یاد رہے! قطع رحمیعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے ۔
صِلَۂ رِحم یہ ہے کہ وہ توڑے تب بھی تم جوڑو
صِلَہ ٔرِحمی(رشتے داروں کے ساتھ اچھا سُلوک ) اِسی کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مکافاۃ یعنی اَدلا بدلا کرنا ہے کہ اُس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اُس کے پاس بھیج دی، وہ تمہارے یہاں آیا تم اُس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صِلَۂ رِحم (یعنی کامِل دَرَجے کا رشتے داروں سے حسنِ سلوک)یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے، بے اِعتنائی (بے۔اِع ۔ تے۔ نائی ۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اُس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات (یعنی لحاظ ورعایت) کرو۔
(رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۷۸)