دعوت بھی عام کی جاسکتی ہے ، اسلامی بھائیوں کو عقائد وفقہ اور حلال وحرام کے حوالے سے مسائل بتائے جاسکتے ہیں اور اسی انٹرنیٹ (Internet)سے فحاشی وعُریانی پھیلانے کا بھی کام لیا جاسکتا ہے ۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ چُھری سے پھل اور سبزی بھی کاٹی جاسکتی ہے اور کسی کی گردن بھی !لیکن تیز چھری کو ناسمجھ بچوں کے ہاتھ میں نہیں دیا جاتا کہ کہیں خود کو زخمی نہ کربیٹھیں ۔بالکل اسی طرح انٹرنیٹ بھی اسی شخص کو استعمال کرنا چاہئے جو اس کے مُضِراَثرات سے بچ سکتا ہو۔ کچی عمر کے نوجوان کو اس کے کمرے میں انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرنا ’’آبیل مجھے مار‘‘والی بات ہے ۔اپنے کمرے میں تنہا بیٹھ کر آپ کا بیٹا یا بیٹی کیا دیکھ رہے ہیں ،آپ کو کیا معلوم ؟ اگر آپ یہ جواب دیں کہ ’’جناب! ہمیں اپنے بچوں پر بھروسہ ہے۔‘‘ تو بتائیے کہ حکایت میں مذکور نوجوان کے باپ نے اِسی اِعتماد کے ہاتھوں ذِلّت وپریشانی نہیں اٹھائی ! پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوسکتا! لہٰذاعافیت وسلامتی اسی میں ہے کہ گھر پر بلاحاجت انٹرنیٹ (Internet)نہ لگوائیے۔ پھر بھی اگر آپ مُثبت مقاصِد کے لئے اپنے گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت رکھنا ہی چاہتے ہیں تو اس کا کنکشن ایسی جگہ لگوائیے جہاں گھر کے اَفراد کا عام آنا جانا ہوتا کہ اگر شیطان کسی کو اس کے غلط استعمال پر بہکائے بھی تو کم از کم گھروالوں کا خوف اسے باز رکھ سکے ۔اس سلسلے میں گھر کے کسی بھی فرد کے تنہائی میں انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی لگانا بے حد مفید ہے ۔جن اسلامی بھائیوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے وہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ کو