ہونے لگا ۔وہ صبح آنکھ کھلتے ہی لیپ ٹاپ کا بٹن دبا دیتا اور سارا دن اس کا لیپ ٹاپ آن رہتا۔اسکول میں بھی اسے جب موقع ملتا وہ لیپ ٹاپ سے کھیلنے لگتا ،اسکول سے واپسی پر وہ اپنے کمرے میں بند ہوجاتا اور رات گئے تک انٹرنیٹ کھولے رکھتا ۔الغرض اب وہ انٹرنیٹ کا ہی ہوکر رہ گیا ۔ اس کی صحت گرنے لگی اور ذہانت کو گرہن لگنے لگا ۔ نثارصاحب نے اپنے بیٹے کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا کیونکہ ان کا بیٹا فحش ویب سائیٹس دیکھنے کا عادی ہوچکا تھا ۔اب اس میں اور ہیروئن کے عادی میں کوئی فرق نہیں رہا تھا ۔ان ویب سائیٹس کے مہلک اثرات اس کے دل ودماغ کو اپنے گھیرے میں لے چکے تھے وہ اپنے ہاتھوں اپنی جوانی برباد کرنے لگا تھا یوں صحت گنوانے کے ساتھ ساتھ پڑھائی سے بھی فارغ ہوگیا اور اپنے جیسے ہزاروں نوجوانوں کے لئے نشانِ عبرت بن گیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ سچاواقعہ حال ہی میں مقامی اخبار کے ایک کالَم میں چھپا تھا جسے ناموں کی تبدیلی اورضَرورتاً تصرُّف کے بعد آپ کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اس داستانِ عبرت نشان میں آپ نے انٹرنیٹ (Internet)کے غلط اِستعمال کا نتیجہ ملاحظہ کیا کہ کس طرح ایک ذہین ترین نوجوان اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی برباد کر بیٹھا۔ انٹرنیٹ (Internet)جدید دَور کی پیداوار ہے ۔اس کی بدولت گویا پوری دنیا کی معلومات سِمَٹ کر کمپیوٹر کی اسکرین پر آجاتی ہیں ،لیکن ہر ذِی شُعُور جانتا ہے کہ معلومات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بُری بھی ! اسی انٹرنیٹ کے ذریعے نیکی کی