Brailvi Books

حرص
97 - 228
(۱۱)  بیٹا برباد ہوگیا 
	نثار صاحب ایک بین الاقوامی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر فائز تھے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ نے انہیں ایک بیٹے سے نوازا جس کی تعلیم وتربیت کے لئے انہوں نے اسے مہنگے ترین اسکول میں داخل کروایا۔صِرْف 6سال کی عمر میں وہ اتنا ذہین تھا کہ اسے اُردواور انگلش کے بڑے بڑے شاعروں کی نظمیں زبانی یاد تھیں ،وہ اس چھوٹی سی عمر میں اخبارات ورسائل بھی پڑھ لیتا تھا ،ملکی معاملات پر بھی اس کی نظر ہوتی تھی ۔یہ اپنی کلاس میں کبھی پہلی تو کبھی دوسری پوزیشن لیا کرتا تھا۔ لیکن 19سال کی عمر میں پہنچتے پہنچتے اس کے سر کے دوتہائی بال سفید ہوگئے، اس کے چہرے پر جھریاں پڑ گئیں ، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے ،یہ جوانی کی دہلیز پر ہی ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا ، اس کے کندھے اور کمر جھکی رہنے لگی ۔اب اس میں خوداعتمادی نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی یہ کسی سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کرسکتا تھا ،دوران گفتگو ایک دَم سہم کر خاموش ہوجاتا اور دائیں بائیں دیکھنے لگتا تھا۔عُرُوج سے زَوال تک کے سفر کا سبب یہ بنا کہ اس کے والد نے چودہ سال کی عمر میں اسے لیپ ٹاپ(Laptop) لے دیا اور ان لمیٹڈ (یعنی ہروقت آن رہنے والا) انٹرنیٹ (Internet)لگوا دیا ۔ والد کا خیال تھا کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے میرا بیٹا مزید ترقی کرے گا لیکن بیٹا ابھی کم عمر تھا ، جونہی اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ آیا تو اس کی سرگرمیوں کا رُخ تبدیل ہونے لگا ۔شروع شروع میں وہ کمپیوٹر کو ایک آدھ گھنٹہ دیتا مگر پھر اس کا زیادہ تر وقت کمپیوٹر پر ہی صَرْف