Brailvi Books

حرص
93 - 228
 تائب ہوچکا تھا، مگر والِد صاحِب نے مجھے T.V.دیکھنے پر مجبور کردیا۔ اُس وقتT.V.پر کوئی ڈِرامہ چل رہا تھا، بے حیالڑکیوں کی فُحش اداؤں نے میرے جذبات میں ہیجان پیدا کرنا شروع کیا، آہ ! تھوڑی ہی دیر پہلے میں خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ َّ کے باعث گِریہ کناں تھا اور اب......اب..... نَفسانی خواہشا ت نے مجھ پر غَلَبہ کیا۔ موقع دیکھ کر شیطان نے اپنا داؤ چلادیا اور وہیں بیٹھے بیٹھے مجھ پر ’’غسل فرض‘‘ ہوگیا!اس واقِعہ کے بعد ایک بار پھر میں گناہوں کے دلدل میں اُتر گیا۔ چُونکہ ظالم مُعاشَرے کے بے جا رَسم و رَواج میرے نکاح کے مقابِل بَہُت بڑی دیوار بنے ہوئے ہیں، میں شَہوت کی تسکین کے لئے اپنے ہاتھوں سے اپنی جوانی پامال کرنے لگ گیاہوں اور گندی حَرَکتوں کے باعث اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ میں شادی کے قابِل نہیں رہا۔ بتائیے !مجرم کون ؟ میں خود یا کہ میرے والد صاحِب ؟  (T.Vکی تباہ کاریاں،ص۶۲)
؎   دل کے پَھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حکایت پڑھ کر شاید آپ کا سرشَرْم سے جُھک گیا ہو اور زبان پر کلماتِ افسوس جاری ہوگئے ہوں، لیکن یہ بھی غور کر لیجئے کہ کہیں آپ نے بھی تو اپنی اولاد یا چھوٹے بہن بھائیوں کو تفریح اور ترقی کے نام پر ٹی وی ، وی سی آر،ڈش انٹینا اور کیبل کی سہولت مہیا نہیں کررکھی!کیا آپ کو اِحساس ہے کہ آپ