Brailvi Books

حرص
91 - 228
 میرے پاس تشریف لائے ۔ میرا سفر کا اِرادہ تو تھا نہیں اس لئے میں انہیں منع کرنے کے لئے کوئی بہانہ ڈھونڈنے لگا لیکن اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ ارے نادان!جب اللہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تجھے ہدایت دینا چاہتے ہیں تو تُو کون ہوتا ہے منع کرنے والا! چنانچہ میں نے اسلامی بھائیوں سے روانگی کا وَقت اور مقام پوچھا اور مغرب کے وقت ان کی بتائی ہوئی جگہ ’’جامع مسجد مَدَنی‘‘ میں پہنچ گیا۔یوں مبلغِ دعوتِ اسلامی کی اِنفرادی کوشش کی برکت سے میں 30دن کے مَدَنی قافلے میں روانہ ہوگیا جس پر میرے والدین اور بہن بھائیوں نے بہت خوشی کا اِظہار کیا ۔ راہِ خدا میں سفر کے دوران جب مجھے عاشقانِ رسول کی صحبت ملی تو مجھے اپنی زندگی کا مقصد پتا چلا ،باجماعت نماز ادا کرنے کی عادت بنی اور خوفِ خدا وعشقِ رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا جذبہ نصیب ہوا ۔مَدَنی قافلے میں ہی میں نے نشے اور دیگر گناہوں سے توبہ کی ، سر پر عمامہ سجایا،رُخ پر داڑھی اور جسم پر مَدَنی لباس سجانے کی پکی نیّت کی،بعدازاں اس کو عملی شکل بھی دے دی ۔ اَلْحَمْدُ اللہ عَزَّوَجَلَّ! پھر مجھے 63دن کا تربیتی کورس کرنے کی بھی سعادت ملی ،دورانِ کورس مجھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے ولیوں کے امام حضور غوث پاک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی خواب میں زیارت بھی نصیب ہوئی ۔ اللہ ربُّ العٰلمین عَزَّوَجَلَّ مجھے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ، بڑے بھائیوں کا ادب اور مسلمانوں سے محبت کرنے والا بنائے ،کروڑوں رحمتیں نازل ہوں میرے پیرومُرشِد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا