بھائی(عمر تقریباً30سال)کا بیان کا خلاصہ ہے کہ میں معاشرے کا بگڑا ہوا فرد تھا ،اپنی والدہ کے ساتھ گستاخی سے پیش آنا، بڑے بھائیوں سے ہاتھا پائی کرنا میرے لئے معمولی بات تھی ۔ پھر میں نے نشے کو اپنا دوست بنالیا ،چنانچِہ میںشراب،بھنگ ، چرس اور دیگر خطرناک نشہ آور اشیاء بڑی بے باکی سے استعمال کرتا اوراس بات کی بالکل پرواہ نہ کرتا کہ یہ نشہ میری جان بھی لے سکتا ہے ۔بارہاایسا ہوا کہ نشے میں دُھت ہوکر سویا تو اگلی رات ہی آنکھ کھلی ۔گھر والے نشے کے لئے رقم دینے سے انکار کرتے تو میں دھمکی دیتا کہ اگر مجھے پیسے نہیں دئیے تو سالن میں زہر ملا کر تم سب کو مار ڈالوں گا۔میری قَساوَتِ قلبی (یعنی دل کی سختی) کایہ عالَم تھا کہ جب گھر والے میری حرکتوں سے تنگ آکر مجھے بددعائیں دیتے تو میں اس پر آمین کہا کرتا تھا ۔ فلموںکا ایسا چسکا تھا کہ دن دیہاڑے گندی فلمیں دیکھ لیا کرتا ،مجھے اس بات کا بھی خوف نہیں ہوتا تھا کہ کمرے میں والدہ یا بھائی آگئے تو کیا کہیں گے!پھر میں نے اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لئے رنگ وروغن کرنے اور کھانے کی دیگیں پکانے کا کام سیکھ لیا ۔ایک دن میں صدر بازار مرکزالاولیاء لاہور (کینٹ) میں اپنے استاذ کے ہمراہ دیگیں پکارہا تھا کہ ایک مبلغ دعوتِ اسلامی جو وہاں کی حلقہ مُشاوَرت کے نگران بھی تھے ، ہمارے پاس تشریف لائے اور دورانِ ملاقات مجھے 30دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کی دعوت پیش کی ۔میں نے انہیں ٹَرخانے کے لئے سفر کی ہامی بھر لی اور بعد میں بھول بھال گیا ۔جس دن مَدَنی قافلے کی روانگی تھی وہی اسلامی بھائی یاددِہانی کے لئے