شرابی نے بیوی بچوں کو قتل کردیا
اَخلاق پربھی شراب کا بُرااثرپڑتا ہے ، شرابی شخص اپنے گھروالوں سے ہمدردی اور خیرخواہی کم ہی کرتا ہے اسے تو صِرْف اپنا نشہ پورا کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ شرابی باپ نے اپنی اولاد کو قتل کردیا،2009ء میں چھپنے والی ایک ایسی ہی ایک اخباری خبر ملاحظہ کیجئے: چنانچہ حجرہ شاہ مقیم (پنجاب)کے ایک شخص نے12 سال قبل ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی ۔ یہ شخص عادی شرابی اور کوئی کام نہیں کرتا تھا جس کی وجہ سے گھر میں اکثر فاقے رہتے اور میاں بیوی میں جھگڑا رہتا۔ گزشتہ روز جھگڑے کے بعد اس نے اپنی بیوی ،10سالہ بیٹے ،6سالہ بیٹی اور 3سالہ بیٹی کو نشہ آور حلوہ کھلا کر بے ہوش کیا اور چاروں کے گلے میں پھندا ڈال کر قتل کر ڈالا اور فرار ہوگیا۔ ملزم نے اپنی بیوی کے دونوں پاؤں بھی تیز دھار آلے سے کاٹ ڈالے۔
؎ جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کر توت
شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شرابی کی توبہ
دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے جہاں چوروں،ڈکیتوں، سُودخوروںاور بدمعاشوں کی اِصلاح ہوئی وہیں شراب پینے والوں کو بھی توبہ نصیب ہوئی ،آئیے ایک مدنی بہار سنتے ہیں،چنانچہ مرکزالاولیاء لاہور (کینٹ) کے اسلامی