برداشْتْ ختم ہو جاتی اور مُستقِل مُضِرّ اثرات مُرتَّب ہونے لگتے ہیں۔ شراب کا سب سے زیادہ اثر جگر(کلیجے) پر پڑتا ہے اور وہ سُکڑنے لگتا ہے، گُردوں پر اِضافی بوجھ پڑتا ہے جو بِالآخر نِڈھال ہو کر انجامِ کار ناکارہ (FAIL) ہوجاتے ہیں، عِلاوہ ازیں شراب کے استِعمال کی کثرت دِماغ کو مُتَوَرَّم (یعنی سُوجن میں مُبتَلا) کرتی ہے، اَعصاب میں سوزِش ہو جاتی ہے نَتِیجَۃً اَعصاب کمزور اور پھر تباہ ہو جاتے ہیں، شرابی کے مِعدہ میں سُوجن ہو جاتی ہے، ہڈّیاں نرم اور خَستہ (یعنی بَہُت ہی کمزور) ہو جاتی ہیں، شراب جسم میں موجود وٹامنز کے ذخائر کو تباہ کرتی ہے، وٹامن BاورCاِس کی غار تگری کا بِالخصوص نشانہ بنتے ہیں۔ شراب کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کی جائے تو اِس کے نقصان دہ اثرات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر، سٹروک اور ہارٹ اٹیک کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ بکثرت شراب پینے والا تھکن، سر درد، متلی اور شدّتِ پیاس میں مبتَلا رہتا ہے۔ بے تحاشہ شراب پی جانے سے دل اور عملِ تَنَفُّس (سانس لینے کا عمل) رُک جاتا اور شرابی فوری طور پر موت کے گھاٹ اُتر جاتا ہے۔(فیضانِ سنت، ج۱،ص۶۲۴)
کر لے توبہ اور تُو مت پی شراب ہوں گے ورنہ دو جہاں تیرے خراب
جو جُوا کھیلے، پئے ناداں شراب قبر و حشر و نار میں پائے عذاب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد