میں دُھت ہو کر لڑکھڑائے اور دَھڑام سے نیچے گر گئے۔ دوسرے نوجوانوں نے ان کے گرنے پر ایک زور دار قہقہہ لگایا اور ساتھ ہی شراب کا دَور تیز کر دیا۔ یوں جام پر جام بنتے رہے، رقص ہوتا رہا اور نوجوان دنیا ومافیہا سے بے نیاز اس محفل کے رنگ میں رنگتے چلے گئے۔ رات گہری ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان شراب پیتے جاتے اور تھرتھراتے و کانپتے ہوئے فرش پر گرتے جاتے یہاں تک کہ فرش پر ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ اچانک ایک دوست نے دوسرے سے پوچھا: ان سب کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ سب کیوں سو گئے ہیں؟ دوسرے نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے دوستوں کو فرش پر پڑے دیکھا اور اس کے بعد اپنے دوست کی طرف دیکھا تو دونوں معاملے کی نوعیت کو بھانپ گئے۔ لہٰذا انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور جب پولیس محفل میں پہنچی تو 27نوجوان فرش پر تڑپ تڑپ کر جان دے چکے تھے جبکہ جو زندہ بچے تھے وہ بھی بری طرح تڑپ رہے تھے۔ پولیس نے فوری طور پر زندہ بچ جانے والوں کو ہسپتال پہنچا دیا،وہاں مزید 9نوجوانوں نے دَم توڑ دیا۔ یوں رمضان کے مقدس مہینے میں سجنے والی رقص و سرود کی محفل موت کی محفل بن گئی اور 36نوجوان زہریلی شراب کے گھاٹ اتر گئے۔
جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت
شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلا ہے
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت
سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام برا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد