کی ماں ہے۔ وہ نادان عابد سمجھا کہ شراب پی کر میں بقیہ گناہوں سے بچ جاؤں گا مگر یہ اس کی خوش فہمی تھی ۔ شراب پیتے ہی گویا گناہوں کا دروازہ کھل گیا پھر وہ بدکاری اور قتل جیسے گناہ میں بھی مبتلاء ہوگیا ۔ شراب کی انہی خرابیوں کی وجہ سے اسلام نے اسے ہمیشہ کے لئے حرام قرار دیا ہے مگر ہمارے معاشرے میں جہاں دوسری بے شمار برائیاں پھیل رہی ہیں اِن میں شراب نوشی بھی شامل ہے ۔فلموں ڈراموں میں دکھائے گئے شراب نوشی کے مناظر اور بُری صحبت سے متاثر ہوکر ہزارہا نوجوان شرابی بن چکے ہیں۔اس فعلِ حرام کے بھیانک اثرات نے ان کی زندگیاں تباہ کردی ہیں۔ بعض تو شراب نوشی کی وجہ سے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں ،ایسی ہی ایک اخباری خبر ملاحظہ کیجئے ، چنانچہ
(۹)36نوجوان ہلاک ہوگئے
7رمضان المبارک 1428ہجری بمطابق21ستمبر2007ء باب المدینہ (کراچی) کے رہائشی چند نوجوانوں نے رقص و سرود کی ایک محفل سجانے کا پروگرام بنایا۔ محفل میں ناچ گانے کے ساتھ شراب وکباب کا بندوبست بھی تھا۔ دوست یار مل کر یہ تقریبًا 40نوجوان تھے۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہی مصنوعی روشنیوں نے جب کراچی کی اس کالونی میں چراغاں کر دیا اور چاروں طرف سے لوگ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونے کے لئے مساجد کا رخ کرنے لگے تو ان نوجوانوں نے اکٹھے ہو کر ناچ گانا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ شراب کے جام چھلکانے لگے۔ اس طرح انہوں نے پوری کالونی میں وہ اودھم مچایا کہ خدا کی پناہ۔ اس دوران چند نوجوان شراب کے نشے