Brailvi Books

حرص
84 - 228
پہلے ایک شخص تھا جو لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کرتا تھا، ایک عورت اُس کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور اس کی طرف خادِم کو کہلا بھیجا کہ گواہی کے سلسلے میں تمہاری ضرورت ہے۔ چنانچہ وہ وہاں پہنچ گیا اور جس دروازے سے اندر داخل ہوتا وہ بند کر دیا جاتا یہاں تک کہ وہ ایک نہایت حسین وجمیل عورت کے پاس جاپہنچا جس کے قریب ایک لڑکا کھڑا تھا اور وہاں شیشے کا ایک بڑا برتن تھا جس میں شراب تھی۔ وہ عورت بولی: میں نے تمہیں کسی قسم کی گواہی دینے کے لئے نہیں بلایا بلکہ اس لئے بلایا ہے کہ تم اِس لڑکے کو قتل کر دو یا میری نفسانی خواہش کو پورا کر دو یا پھر شراب کا ایک جام پی لو، اگر اِنکار کیا تو میں شور کروں گی اور تمہیں ذلیل ورُسوا کر دوں گی۔ جب اُس شخص نے دیکھا کہ چُھٹکارے کی کوئی راہ نہیں تو شراب پینے پر راضی ہو گیا۔ عورت نے شراب کا ایک جام پلایا تو اس نے (نشے میں جھومتے ہوئے) مزید شراب مانگی، وہ اسی طرح شراب پیتا رہا یہاں تک کہ نہ صِرْف اس عورت کے ساتھ منہ کالا کیا بلکہ لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مزید فرمایا: پس تم شرا ب سے بچتے رہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! بے شک ایمان اور شراب نوشی دونوں کسی ایک ہی شخص کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے،(اگر کوئی ایسا کرے گا تو) ایمان و شراب میں سے ایک، دوسرے کو نکال باہر کرے گا۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الاشربۃ، فصل فی الاشربۃ، الحدیث۴۲۳۵،ج۷،ص۷۶۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس میں کوئی شک نہیں کہ شراب برائیوں