مجھے زنا کی اجازت دیجئے
ایک نوجوان سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا :یارسولَ اللہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔یہ سنتے ہی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رسولِ اکرمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور نوجوان کو اپنے قریب بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ سوال کیا:اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟اس نے عرض کی :میں اس کو کیسے رَوا رکھ سکتا ہوں ؟آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں؟پھر دریافت فرمایا:تیری بیٹی سے اگر اس طرح کیا جائے تو تو اسے پسند کریگا؟عرض کی: نہیں۔ فرمایا:اگر تیری بہن سے کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے تو ؟اور اگر تیری خالہ سے کرے تو؟اسی طرح آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک ایک رشتے کے بارے میں سوال فرماتے رہے اور وہ جواب میں یہی کہتا رہا کہ مجھے پسند نہیں اور لوگ بھی رضا مند نہیں ہوں گے۔تب سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کردُعا کی :یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ!اس کے دل کو پاک کر دے ، اس کی شرمگاہ کو بچا لے اور اس کا گناہ بخش دے۔اس کے بعد وہ نوجوان تمام عمر زنا سے بے زار رہا۔(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث ابی امامۃ الباھلی،ج۸،ص۵۸۲،الحدیث ۴۷۲۲۲ملخصًا)