Brailvi Books

حرص
80 - 228
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زنا جیسے حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام سے دُور ی کے لئے ہراُس راستے پر چلنے سے بچئے جو زِنا کی طرف لے جاتا ہے ،اپنی نگاہ کی حفاظت کیجئے ،نامحرم اور بے پردہ عورتوں سے بے تکلفی سے کوسوں دُور بھاگئے، مخلوط محفلوں میں جانے سے کترائیے۔اسلامی بہنوں کو بھی چاہئے کہ نامحرم مردوں کے ساتھ غیرضروری اور لوچ دار گفتگو ، ہنسی مذاق اور تنہائی اختیار کرنے سے بچیں اوران سے اس طرح کترائیں جیسے سانپ کو دیکھ کر بھاگتی ہیں۔ الغرض نیت صاف منزل آسان! آئیے زنا سے بچنے کے لئے اپنا ہاتھ تک جلاڈالنے والے عابد کی سبق آموز حکایت سنتے ہیں :چنانچہ 
بدکاری کی دعوت ٹھکرا دی 
	حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الاَ حباررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں:بنی اسرائیل میں ایک عابِد تھے جو کہ صِدّیق ( یعنی اوّل دَرَجے کے ولی) کے منَصب پر فائز تھے۔ شان یہ تھی کہ خانقاہ پر بادشاہ حاضِر ہو کر حاجت دریافت کرتا مگر آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ   مَنع فرما دیتے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  کے عبادت خانے پر انگور کی بیل لگی ہوئی تھی جو ہر روز ایک انوکھا انگور اُگاتی تھی کہ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  اُس کی طرف اپنا مبارَک ہاتھ آگے بڑھاتے تو اُس میں سے پانی اُبل پڑتا جسے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نوش فرمالیتے۔ایک دن مغرِب کے وَقت ایک جوان لڑکی نے دروازے پردستک دیکر کہا، اندھیرا ہو گیا ہے ، میراگھر کافی دُور ہے، مجھے