اور اگر ہمیں کسی کے گندے کام کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوبھی جائے توہر کسی کے سامنے رُسوا کرنے کے بجائے اس کی پردہ داری کرتے ہوئے حتی المقدوراَحسن انداز میں سمجھانا چاہئے ۔ اس ضمن میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی تالیف’’ پردے کے بارے میں سوال جواب ‘‘کے صفحہ 389 سے اہم اِقتباس ملاحظہ کیجئے :
سُوال:کسی کا گناہ معلوم ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:اُس کا پردہ رکھنا چاہئے کہ بِلا مَصلحتِ شَرعی کسی دوسرے پر اس کا اظہار کرنے والا گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ مسلمانوں کا عیب چُھپانے کا ذِہن بنایئے کہ جوکسی کاعیب چُھپائے اس کیلئے جنّت کی بِشارت ہے۔چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُناابو سعیدخُدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے :جوشخص اپنے بھائی کی کوئی بُرائی دیکھ کراُس کی پردہ پوشی کردے تووہ جنّت میں داخِل کردیاجائیگا۔(مُسْنَدُ عَبْدِ بْنِ حُمَید ص ۹۷۲،الحدیث۵۸۸ )لہٰذا جب بھی ہمیں معلوم ہوکہ فُلاں نے مَعَاذَ اللہعَزَّوَجَلَّ!َّ زِنایالواطت کااِرتِکاب کیاہے،بدنِگاہی کی ہے،جھوٹ بولاہے، بدعہد ی یا غیبت کی ہے یاکوئی بھی ایسا جُرم چُھپ کرکیاہے جس کوظاہِرکرنے میں کوئی شَرعی مَصلحت نہیں تو