Brailvi Books

حرص
75 - 228
میں لے جانے والا کام ہے ۔اس ناپاک فعل کی ممانعت کرتے ہوئے رب تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾    (پ۵۱،بنی اسرائیل :۲۳)
ترجمہ کنزالایمان :اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ۔
زنا کی سزا
	زنااس قدر گھناؤنا فعل ہے کہ شریعت نے اس کی دنیا میں بھی سزا مقرر فرمائی ہے ۔چنانچہ نَفْس وشیطان کے بہکاوے میں آکر وقتی لذّت کی خاطِر زِنا کا اِرتکاب کرنے والا مرد یاعورت اگر غیر شادی شدہ ہو تو اس کی شرعی سزا یہ ہے کہ اسے کسی نرمی کے بغیر اعلانیہ طور پر100 کوڑے مارے جائیں گے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ۪ وَّ لَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمْ تُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ وَ لْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۲﴾   (پ۸۱،النور۲)
ترجمہ کنزالایمان: جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔
    اور اگر کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس فعل میں مبتلاء ہو جائے تو بِالْاِجماع اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔البحر الرائق میں ہے:اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہو تو اسے
 کسی کھلی جگہ میں پتھر مارے جائیں حتی کہ مر جائے۔(البحرالرائق ، کتاب الحدود، ج۵،ص۳۱) لیکن یادر ہے کہ ان سزاؤں کے تعیّن کا ایک طریقہ کار ہے اور یہ سزائیں دینے کا حق بھی بادشاہِ اسلام کو ہے نہ کہ ہرکس وناکس کو ۔ نیز ہمیں چاہئے کہ محض شک یا گمان یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کو زانی قرار نہ دیں