Brailvi Books

حرص
73 - 228
؎   مری لاش سے سانپ بچّھو نہ لپٹیں
کرم بہرِ احمدرضاؔ یاالٰہی
(وسائل بخشش ص ۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶)  قبر میں آگ بھڑک رہی تھی
	حضرت سیِّدناعَمر وبن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار  فرماتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں ایک شخص رہتا تھا جس کی بہن مدینہ شریف کے قریب ایک بستی میں رہتی تھی۔ وہ بیمار ہوئی تو یہ شخص اس کی تیمار داری میں لگارہا مگر وہ اسی مرض میں اِنتقال کر گئی۔ اس شخص نے اپنی بہن کی تجہیز و تکفین کا اِنتظام کیا، جب دفن کرکے واپس آیا تو اُسے یاد آیا کہ وہ رقمکی ایک تھیلی قَبْرمیں بھول آیا ہے۔اس نے اپنے ایک دوست سے مدد طلب کی دونوں نے جاکر اس کی قَبْر کھود کر تھیلی نکال لی۔ تو اس شخص نے دوست سے کہا :’’ذرا ہٹنا میں دیکھوں تو سہی میری بہن کس حال میں ہے؟‘‘ اس نے لحد میں جھانک کردیکھا تو وہاں آگ بھڑک رہی تھی، وہ چپ چاپ واپس چلا آیا اور ماں سے پوچھا:’’ کیا میری بہن میں کوئی خراب عادت تھی؟‘‘ ماں نے کہا :تیری بہن کی عادت تھی کہ وہ ہمسایوں کے دروازوں سے کان لگا کر ان کی باتیں سنتی تھی اور چغل خوری کیا کرتی تھی ۔  (مکاشفۃ القلوب،ص۱۷)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت میں چُغلی کے حریصوں کے لئے عبرت ہی عبرت ہے ۔امام نَوَوِی علیہ رحمۃ القوی نے چغلی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :