Brailvi Books

حرص
72 - 228
 سزائیں ملیں گی جن کا ذکرسنتے ہی رُونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، صِرْف دوسزائیں ملاحظہ ہوں:(۱)بخاری شریف میں ہے:کچھ دوزخیوں کو خون کے دریا میں ڈال دیا جائے گااور وہ تیرتے ہوئے کنارہ کی طرف آئیں گے تو ایک فرشتہ پتھر کی ایک چٹان اُن کے منہ پر اِس زور سے مارے گا کہ وہ پھر بیچ دریا میں پلٹ کر چلے جائیں گے ۔ بار بار یہی عذاب اُن کو دیا جاتا رہے گا۔ یہ سود خوروں کا گروہ ہو گا۔ (بخاری،کتاب الجنائز،حدیث۶۸۳۱ ملخصاً،ج۱،ص۷۶۴،۸۶۴ ملتقطاً) (۲)ابن ماجہ شریف میں ہے : معراج کی رات میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا، جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے،ان میں سانپ تھے،جو پیٹوں کے باہر سے بھی نظر آتے تھے۔میںنے پوچھا کہ اے جبرئیل! (علیہ السلام)یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے عرض کی:’’  سُود کھانے والے  ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، ج۳، ص۱۷ ، حدیث۳۷۲۲)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: آج اگر ایک معمولی کیڑا پیٹ میں پیدا ہو جائے تو تندرستی بگڑ جاتی ہے، آدمی بیقرار ہو جاتا ہے، تو سمجھ لو! کہ جب اُس کا پیٹ سانپوں بچھوؤں سے بھر جائے، تو اُس کی تکلیف وبیقراری کا کیا حال ہو گا، رب  (عَزَّوَجَلَّ) کی پناہ۔(مرأۃ المناجیح ج۴ ص۹۵۲) ہم قَہرِ قَھّار اور غَضَبِ جبّار سے اُسی کی پناہ کے طلبگار ہیں۔