Brailvi Books

حرص
70 - 228
 وغیرہ لگانے کی ترغیب دی اور انہیں لالچ دیا کہ اس طرح تم بھی بہت بڑے آدمی بن جاؤ گے۔ اس کی باتوں میں آکر انہوں نے ایک موٹی رقم سود پرقرض لے کر کاروبار شروع کیا یا کارخانہ لگایا مگر سُود کی نحوست سے آج وہ قلاش اور انتہائی ذلیل و خوار ہیں کیونکہ اتنی بڑی رقم دیکھ کر انہوں نے اور ان کے اہل خانہ نے خوب ٹھاٹ باٹ کئے اور شاہانہ زندگی گزارنا شروع کردی جس سے اَخراجات میں اِضافہ ہوا ، اُدھر کاروبار میں نقصان ہوا اور قرض کے ساتھ سود کی رقم بھی بڑھتی گئی اور وقت پر قرض کی ادائیگی نہ ہوسکنے کی بنا پر زمین ،جائداد بیچنی پڑی ،کوٹھی نیلام ہوگئی اور آج بے گھر اورپیسے پیسے کے محتاج اور ذلیل و خوار ہیں ۔’’نوائے وقت‘‘ آن لائن سے لی گئی ایسی ہی چند عبرت ناک اخباری خبریں ملاحظہ کیجئے: *سمن آباد مرکزالاولیاء  لاہور کا ایک رہائشی جس کی کپڑے کی فیکٹری تھی،اس نے سُود خوروں سے ایک کروڑ روپے قرض لیا، اس نے تین کروڑ روپے واپس کر دئیے اس کے باوجود اس کے ذمے اصل رقم واجب الادا تھی۔ وہ یہ رقم ادا نہ کر سکا ،آخرکار اس نے اپنی فیکٹری اور گھر لاہور کے سود خوروں کے ہاتھوں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیا، اب وہ بیچارا باب المدینہ کراچی میں ملازمت کر رہا ہے اور اس کے بیوی بچے مُفْلِسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔٭ مرکزالاولیاء لاہور میں ملتان روڈ کے رہائشی ایک رکشہ ڈرائیور نے سُودی قرض ادا نہ کر سکنے پر اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ زہر کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔٭ باغبانپورہ مرکزالاولیاء لاہور میں دو بچیوں کے باپ نے بھی سود خوروں سے تنگ آ کر گلے میں پھندہ لے کر خودکشی کر لی۔٭ سود