Brailvi Books

حرص
69 - 228
	غور کیجئے کہ سود کتنا بڑا جرم ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے صِرْف اس کے کھانے والے اور لینے والے پر لعنت نہیں فرمائی بلکہ سود دینے والے ،اس معاملہ میں گواہ بننے والے اور اس معاملے کو قلم بند کرنے والے اور ان تمام لوگوں کے لئے جنہوں نے اس میں کسی بھی طرح کا تعاوُن کیا ہے لعنت بھیجی ہے اور سب کو اس گناہ عظیم اور لعنت میں شریک اور مُساوی قرار دیا ہے۔ذرا سوچئے!کہ جن پر رسولِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین ہوکر لعنت بھیجیں اور ان کے لئے اللہکی رحمت اور خیر سے دُوری کی دعا کریں ،انہیں دنیا میں کہاں پناہ ملے گی اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟
سود سے مال بڑھتا نہیں گھٹتا ہے
	سود کا لین دین کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس کے مال میں اِضافہ ہورہا ہے حالانکہ سُود ہرگز ہرگز باعثِ برکت نہیں ہوسکتا ،چنانچہ خلق کے رہبر،شافعِ محشرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سُو د سے مال خواہ کتنا ہی بڑھے آخرِ کار قِلّت کی طرف لے جاتا ہے ۔(مشکوۃ المصابیح،کتاب البیوع،باب الربا،الفصل الثالث، الحدیث۷۲۸۲، ج۱، ص۴۲۵)
سود لینے والوں کی پریشانیاں 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایسے بہت سے واقعات آپ کو ملیں گے کہ  فلاں صاحب آرام سے حلال کی روٹیاں کھاتے ،چین سےر