Brailvi Books

حرص
68 - 228
خوف محسوس ہونے لگا ۔ جب دن خوب چڑھ گیا تو وہ آوازسنائی دینا بند ہو گئی ۔ ایک شخص میرے قریب سے گزرا تو میں نے اس سے قَبْر کے بارے میں پوچھا، اس نے مجھے بتا یا کہ یہ فلاں کی قَبْر ہے۔میں اس شخص کو پہچان گیا ،یہ بڑا پکا نمازی تھا اور بے جا گفتگو سے پرہیز کیا کرتا تھا۔ایسے نیک شخص کی قَبْر سے رونے پیٹنے کی آوازیں سن کر میں بڑا حیران تھا ۔ میں نے معلومات کیں تو پتا چلا کہ وہ سُود خور تھا ،شاید اسی وجہ سے اسے قَبْر میں عذاب ہورہا تھا ۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر،ج۱،ص۰۳،۱۳)اِس حکایت سے سُود خوروں کو عبرت پکڑنی چاہئے کہ کہیں مرنے کے بعد اُن کا بھی یہی اَنجام نہ ہو! 
سُود حرام ہے 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سود حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ یہ اس قدر غَلیظ فعل ہے کہ اسے 70گناہوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے ،چنانچہ نبی اکرم ، نُورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: سُود ستر گناہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زِنا کرے ۔ 
(سنن ابن ماجہ ج۳ ،ص۲۷ حدیث۴۷۲۲)
سُودباعث لعنت ہے
	    رسولِ نذیر ،سِراجِ مُنیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سُود کھانے والے اور سُود کھلانے والے اور سُود لکھنے والے اور سُود کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ 
(صحیح مسلم،کتاب المساقاۃ،حدیث۸۹۵۱ ، ص۲۶۸)